
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ انتہائی کامیاب تاجر تھے، جنہوں نے چند درہم سے تجارت کا آغاز کر کے بے پناہ دولت کمائی،
(جب ان کا انتقال ہوا تو تین ارب دس کروڑ بیس لاکھ دینار چھوڑ کر گئے)
انہوں نے ہمیشہ اسلام اور ضرورت مندوں کی خدمت میں دل کھول کر خرچ کیا۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف کی تجارت کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
تجارت میں کبھی دھوکا نہ دیا۔
اپنے مال میں نقص بتا کر بیچتے۔
نقد تجارت کرتے۔
وہ کبھی ادھار پر مال نہ ہی خریدتے اور نہ ہی بیچتے تھے، جس کی وجہ سے ان کے مال میں تیزی سے برکت اور اضافہ ہوا۔
عبد الرحمن بن عوف (43ق.ھ / 31ھ) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی تھے ان کا لقب تاجر الرحمن تھا۔ آپ عشرہ مبشرہ میں بھی شامل ہیں۔[2][3] حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی ولادت مبارکہ سے دس سال بعد خاندان قریش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم و تربیت اسی طرح ہوئی جس طرح سرداران قریش کے بچوں کی ہوا کرتی تھی۔آپ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا سبب یہ ہوا کہ یمن کے ایک بوڑھے عیسائی راہب نے آپ کو نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ظہور کی خبر دی اور یہ بتایا کہ وہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوں گے اور مدینہ منورہ کو ہجرت کریں گے ۔ جب آپ یمن سے لوٹ کر مکہ مکرمہ آئے توحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو اسلام کی ترغیب دی۔ چنانچہ ایک دن انھوں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کر لیا۔جبکہ آپ سے پہلے چند ہی آدمی آغوش اسلام میں آئے تھے چونکہ مسلمان ہوتے ہی آپ کے گھر والوں نے آپ پر ظلم وستم کا پہاڑ توڑنا شروع کر دیا اس لیے ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے ۔ پھر حبشہ سے مکہ مکرمہ واپس آئے اور اپنا سارا مال واسباب چھوڑ کر بالکل خالی ہاتھ ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے گئے ۔ مدینہ منورہ پہنچ کر آپ نے بازار کا رخ کیا اور چند ہی دنوں میں آپ کی تجارت میں اس قدر خیر وبرکت ہوئی کہ آپ کا شمار دولت مندوں میں ہونے لگا اور آپ نے قبیلہ انصار کی ایک خاتون سے شادی بھی کرلی۔.[4] تمام اسلامی لڑائیوں میں آپ نے جان ومال کے ساتھ شرکت کی ۔ جنگ اُحد میں یہ ایسی جاں بازی اور سر فروشی کے ساتھ کفار سے لڑے کہ ان کے بدن پر اکیس زخم لگے تھے اور ان کے پاؤں میں بھی ایک گہرا زخم لگ گیا تھا جس کی و جہ سے یہ لنگڑا کر چلتے تھے ۔ آپ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ آپ کا تجارتی قافلہ جو سات سو اونٹوں پر مشتمل تھا۔ آپ نے اپنا یہ پورا قافلہ مع اونٹوں اور ان پر لدے ہوئے سامانوں کے خدا عزوجل کی راہ میں خیرات کر دیا۔ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو صدقہ دینے کی ترغیب دی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چار ہزار درہم پیش کر دیے۔ دوسری مرتبہ چالیس ہزار درہم اور تیسری مرتبہ پانچ سو گھوڑے ،پانچ سو اونٹ پیش کردیے بوقت وفات ایک ہزار گھوڑے اور پچاس ہزار دیناروں کا صدقہ کیا اور جنگ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے لیے چار چارسو دینار کی وصیت فرمائی اور ام المؤمنین حضرت بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور دوسری ازواج مطہرات کے لیے ایک باغ کی وصیت کی جو چالیس ہزار درہم کی مالیت کا تھا۔ [5]32ھ میں کچھ دنوں بیمار رہ کر چوہتّر(74) سال کی عمر میں وفات فرمائی اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے اور ہمیشہ کے لیے سخاوت و شجاعت کا یہ آفتاب غروب ہو گیا



